اس آرٹیکل کے آخر میں میں نے ویڈیو بھی اپ لوڈ کی ہے جو اس بات کی تصدیق کرے گی کہ واقعی مکہ مکرمہ ہی دنیا کا مرکز ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے
»ِاِنَّ أَوَّلَ بَیتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّۃَ مُبَارَکاً وَہُدًی لِّلعَالَمِین«
بلاشبہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے ۔ا س گھر کو برکت دی گئی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا۔ (آل عمران : 96) ۔
سائنسی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ مکہ جسے قرآن میں بکہ بھی کہا گیا ہے اور جہاں مسلمان عمرہ وحج ادا کرتے ہیں ،زمین پر معرض وجود میں آنے والا خشکی کا پہلا ٹکڑا تھا ۔سائنسی طور پر ثابت شدہ حقیقت یہی ہے کہ زمین کی پیدائش کے ابتدائی ایام میں تمام کرہ زمین پانی میں ڈوباہوا تھا یعنی ایک بہت بڑا سمندر تھا ۔بعدازاں اس کی تہہ سے آتش فشاں پھٹے اورانہوں نے زمینی پرت کے نیچے پگھلے ہوئے چٹانی مواد اور لاوے کو بڑی مقدار میں اوپر دھکیل دیا جس سے ایک پہاڑی معرض وجود میں آئی اوریہی وہ پہاڑی تھی کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا گھر (قبلہ)بنانے کا حکم دیا ۔مکہ کی سیاہ بسالٹ چٹانوں پر کی گئی سائنسی تحقیق سے یہ ثابت ہوچکاہے کہ یہ ہماری زمین کے قدیم ترین پتھر ہیں۔
اگر یہ بات ایسے ہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسی مکہ سے ہی پھر بقیہ زمین کو پھیلایا گیا اور دنیا کے دوسرے خطے معرض وجود میں آئے۔
پروفیسرحسین کمال الدین ریاض یونیورسیٹی میں شعبہ انجنیئرنگ میں پروفیسر تھے۔ انہوں نے اپنی بے مثال تحقیق کے بعد اس امر کا انکشاف کیاتھا کہ مکہ زمین کا مرکز ہے ۔انہیں اس حقیقت کا علم اس وقت ہوا جب وہ دنیا کے بڑے شہروں سے قبلہ (مکہ )کی سمت معلوم کرنے کے کام پر مامور تھے
۔ا س مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ایک چارٹ بنایا ۔ا س چارٹ میں ساتوں براعظموں کو مکہ المکرمہ سے فاصلے او رمحل وقوع کی بنیاد پر ترتیب دیا ۔پھراپنے کام کو مزید آسان بنانے کے لیے انہوں نے اس چارٹ کو طول بلد اور عرض بلد کے حساب سے تقسیم کرنے کے لیے یکساں خطوط کھینچے ۔پھر ان فاصلوں ،مقداروں اور دوسری کئی ضروری چیزوں کو معلوم کرنے کے لیے انہو ں نے انتہائی جدید اور پیچیدہ کمپیوٹر سافٹ وئیرز کو استعمال کیا اور آخرکار دوسالہ انتھک محنت کے بعد اپنی نئی دریافت کا انتہائی خوشی سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’مکہ ‘‘ہی زمین کامرکز ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک ایسا دائرہ بنایا جائے کہ اگر اس کا مرکز مکہ ہوتواس دائرے کے بارڈرز تما م براعظموں سے باہر واقع ہوںگے اور اسی طرح اس دائرے کا محیط تما م براعظموں کے محیطوں کا احاطہ کر رہا ہوگا۔(المجلہ العربی ۔نمبر 237،اگست 1978ء)۔
بعدازاں 20صدی کی آخری دہائی میں زمین اور زمین کی تہوں کی جغرافیائی خصوصیات کو جاننے اور نقشہ نویسی کی غرض سے حاصل کی گئیں سیٹلائٹ تصاویر سے بھی اس تحقیق کوتقویت ملتی ہے کہ مکہ زمین کے مرکز میں واقع ہے ۔سائنسی طور پریہ امر ثابت شدہ ہے کہ زمین کی پلیٹیں (Tectonics Plates) اپنی لمبی جغرافیائی عمر کے وقت سے باقاعدگی کے ساتھ عربین پلیٹ کے گرد گھوم رہی ہیں۔یہ پلیٹیں باقاعدگی کے ساتھ عربین پلیٹ کی طرف اس طر ح مرتکزہورہی ہیں کہ گویا یہ ان کا مرکز ہدف ہے ۔اس سائنسی تحقیق کا مقصد ہرگز یہ معلوم کرنا نہیں تھاکہ زمین کا مرکز مکہ ہے یانہیں بلکہ کچھ اور مقاصد تھے ۔تاہم اس کے باوجود یہ تحقیق مغرب کے کئی سائنسی میگزینوں میں شائع ہوئی مگر اس طورپر کہ اس سے کوئی نتیجہ اخذنہ کیا جاسکے۔
سید ڈاکٹر عبدالباسط مصر کے نیشنل ریسرچ سنٹر کے ممتاز رکن ہیں ۔انہوں نے 16جنوری 2005ء میں سعودی عرب میں المجد ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا تھا ۔ اس میں مکۃ المکرمہ کے متعلق کئی حیرت انگیز سائنسی انکشافات کیے تھے ۔(
یہ انٹرویویوٹیوب پر دستیاب ہے)۔
قرآن مجید میں بھی مکہ کو ’’ام القری‘‘کہا گیاہے جس کا مطلب ہے کہ مکہ ان شہروں کی ماں ہے جو سب اس کے اردگرد ہیں۔اس آیت سے بھی یہ معلوم ہوتاہے کہ مکہ تمام شہروں کے درمیان میں ہے۔اسلامی معاشرے میں ماں کے لفظ کی ایک خا ص اہمیت ہے ۔آل واولاد کا سلسلہ ماں سے ہی چلتاہے ۔چناچہ مکہ کو شہروں کی ماں کانام دینے سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ زمین کے بقیہ حصے بھی اسی سے پھیلے یا اس کے بعد وجود میں آئے اوریہی بات سائنسی طور پر بھی ثابت ہوچکی ہے۔
کعبہ کی ایک اور اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ مسلمان اس کے گرد طواف کرتے ہیں۔ طواف کا آغاز حجر اسو د والی جگہ سے کیا جاتاہے ۔حاجی یہ طواف اینٹی کلاک وائز (مخالف گھڑی وار)کرتاہے اوریہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کائنات میں ایٹم سے لے کر کہکشاؤں تک ہر چیز اینٹی کلاک وائز حرکت کررہی ہے۔ایٹم کے اندر الیکٹرونز ،نیوکلئس کے گرد اینٹی کلاک وائز گردش کرتے ہیں۔زمین کی تمام پلیٹیں عربین پلیٹ کے گرد اینٹی کلاک وائز حرکت کرتی ہیں۔انسانی جسم کے اندر سائیٹوپلازم ،سیل کے نیوکلئس کے گرد اینٹی کلاک وائز حرکت کرتاہے۔پروٹین مالیکیولز بھی بائیں سے دائیں طرف اینٹی کلاک وائز ہی حرکت کرتے ہوئے ترتیب پاتے ہیں۔ماں کے رحم کے اندر بیضیٰ انثیٰ بھی اپنے ہی گرد حرکت اینٹی کلاک وائز ہی کرتاہے۔ مرد کی منی کے اندرجرثومہ بھی اپنے ہی گرد اینٹی کلاک وائز حرکت کرتے ہوئے بیضیٰ انثی تک پہنچتاہے۔انسانی خون کی گردش بھی اینٹی کلاک وائز ہی شروع ہوتی ہے۔زمین اپنے گرد اور سورج کے گرد بھی انیٹی کلاک وائز ہی حرکت کرتی ہے ۔سورج اپنے ہی گرد اینٹی کلاک وائز حرکت کرتاہے ۔سورج اپنے تما م نظام شمسی سمیت ملکی وے کہکشاںکے مرکز کے گرد اینٹی کلاک وائز گردش کرتاہے۔کہکشاں خود اپنے ہی گرد اینٹی کلاک وائز گردش کرتی ہے۔چناچہ ان تفصیلات سے معلوم ہوتاہے کہ ایک مسلمان جب کعبہ کا طواف کرتاہے تووہ اسی طرح اپنے رب کی طرف سے عائد کی گئی ڈیوٹی کو نبھاتاہے کہ جس طرح ایٹم سے لے کر کہکشاؤں تک ،سب اپنے رب کے حکم کے آگے سر اطاعت خم کیے ہوئے ایک ہی سمت میں محو گردش ہیں۔اس سے اسلام کا امیتاز او ربرتری دوسرے مذاہب کی نسبت نکھر کر سامنے آجاتی ہے۔
اب جب کہ سائنسی تحقیقات اور سیٹلائٹ تصاویر نے بھی اس تحقیق کی حمایت کردی ہے کہ مکہ ہی زمین کا مرکز ہے تو کئی دہائیوں سے جاری اس تنازعہ اور بحث و مباحثہ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی طور پر وقت کے معیار کے لیے گرینچ کی بجائے ’’مکہ ‘‘ ہی کو مرکزقراردیاجائے ۔اب اگر مکہ کے وقت کو بین الاقوامی طورپر نافذ کردیاجائے تو ہر ایک کے لیے نمازوں کے اوقات کا معلوم کرنابالکل آسان ہوجائے گا۔لہذا مکۃ المکرمہ جو کہ ایک مبارک شہر ہے ،کو دنیا کے دیگر شہر وں پر فضیلت کا حق ملنا چاہیے ۔
طارق اقبال سوہدروی
جدہ
http://pak.net/
اسی موضوع کی مناسبت سے میرے پاس جدید تحقیق پر مبنی ویڈیو موجود ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ سائنس اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ مکتہ المکرمہ ہی زمین کا مرکز ہے ۔


0 comments:
Post a Comment